عصر نو

قسم کلام: اسم ظرف زماں

معنی

١ - نیا زمانہ، دورِ جدید۔ "کسے فرصت ہو گی کہ عصر نو کے ملبے میں عزت نفس کی تلاش کرے۔"      ( ١٩٦٨ء، آوازِ دوست، ١٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عصر' بطور موصوف کے ساتھ فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'نو' لگانے سے مرکب توصیفی 'عصر نو' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٢٤ء کو "بانگ درا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نیا زمانہ، دورِ جدید۔ "کسے فرصت ہو گی کہ عصر نو کے ملبے میں عزت نفس کی تلاش کرے۔"      ( ١٩٦٨ء، آوازِ دوست، ١٢ )

جنس: مذکر